منتخب مضمونبنگالی زبان کی تحریک (بنگالی: ভাষা আন্দোলন بھاشا اندولون) مشرقی بنگال (اب بنگلہ دیش ) میں چلائی گئی ایک سیاسی تحریک تھی جس کا مقصد بنگالی زبان کو بطور دفتری زبان کے طور پر اپنانا تھا تاکہ سرکاری معاملات میں اسے استعمال میں لایا جاسکے، نیز یہ بنگالی زبان کو بطور ذریعہ تعلیم، ذرائع ابلاغ، کرنسی، ڈاک ٹکٹو ں میں بھی استعمال کرنے کی تحریک تھی اور اس کے ساتھ ساتھ اس کا مقصد بنگالی رسم الخط کا فروغ بھی تھا۔ 1947ء میں تقسیم ہند کے بعد قیام پاکستان ہوا جو کثیر نسلی، لسانی اور جغرافیائی خطوں پر مشتمل تھا۔ اسی طرح اس کا مشرقی بنگال صوبہ (جسے 1956ء میں مشرقی پاکستان کہا گیا) میں بنگالی لوگ اکثریت میں بستے تھے۔ 1948ء میں حکومت پاکستان نے اردو کو بطور واحد سرکاری زبان کے طور پر پورے ملک میں نافذ کیا جس کے سبب مشرقی بنگال کے عوام میں بے چینی پھیلی اور وہاں بڑے بڑے عوامی جلسے اس فیصلے کے خلاف میں نکالے گئے۔کیے بڑے مسئلوں جس میں مہاجرین، نئے قانون کے مسائل، فرقہ وارانہ فسادات شامل تھے اس نوزائیدہ مملکت نے ایسے تمام جلسے جلوسوں اور عوامی میٹنگوں کو غیر قانونی قرار دیا۔ ڈھاکہ یونیورسٹی کے طلبہ اور چند دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین نے اس فیصلے کے خلاف 21 فروری 1952ء کو ایک احتجاج کا کیا۔ اس تحریک نے اس وقت عروج پائی جب اس دن پولیس نے مظاہرین طلبہ پر گولیاں چلائیں جس سے کئی اموات ہوئیں۔ ان ہلاکتوں نے عوام میں وسیع طور پر اشتعال انگیزی پھیلائی۔ ان تنازعات کے کئی سال بعد مرکزی حکومت نے 1956ء میں بنگالی زبان کو دفتری زبان قرار دیا۔ 21 فروری 1999ء کو یونیسکو نے اس دن کو زبان کے عالمی دن کے طور پر منانے کو فیصلہ کیا تاکہ اس تحریک کے کارکنان اور دنیا میں زبان کے حق کے سلسلے میں بیداری پیدا کی جاسکے۔ |
حالیہ واقعات
منتخب فہرستوزڈن کرکٹرز آف دی ایئر وہ کرکٹر کھلاڑی ہوتے ہیں جنہیں وزڈن کرکٹرز المانک اپنی سالانہ اشاعت کے لیے منتخب کرتی ہے یہ کھلاڑی خالصتا اپنی اعلیٰ اور یادگار کارکردگی سے میرٹ پر اس فہرست میں شامل کِیے جاتے ہیں جو بنیادی طور پر ان کے "پچھلے سیزن پر کارکردگی کا سبب ہوتا ہے اس ایوارڈ کا آغاز 1889ء میں "سال کے 6 عظیم باؤلرز" کے نام سے ہوا تھا، اور 1890ء میں "سال کے نو عظیم بلے باز" اور 1891ء میں "پانچ عظیم وکٹ کیپرز" کے نام کے ساتھ اسے آگے بڑھایا گیا 133 سال کے طویل عرصے میں سینکڑوں کرکٹ کھلاڑی اس فہرست میں جگہ بنا کر تاریخ کے صفحات کی زینت بن جکے ہیں جنہیں نہایت تفصیل کے ساتھ یہاں بیان کیا جا رہا ہے۔ کیا آپ جانتے تھے • … کہ شاہ جو رسالو کو ارنسٹ ٹرمف نے سب سے پہلے جرمنی سے 1886ء میں شائع کروایا۔
آج کا لفظ
کیا آپ بھی لکھنا چاہتے ہیں؟اردو ویکیپیڈیا پر اس وقت 178,262 مضامین موجود ہیں، اگر آپ بھی کسی موضوع پر مضمون لکھنا چاہتے ہیں تو پہلے اس صفحۂ تلاش پر جا کر عنوان لکھیے اور تلاش کرنے کی کوشش کریں، ممکن ہے آپ کا مطلوبہ مضمون پہلے سے موجود ہو۔ اگر مضمون موجود نہ ہو تو ذیل کے خانہ میں وہ عنوان درج کریں اور نیا مضمون تحریر کریں۔ | |||||||
خاص مضمونداود بن علی بن خلف ظاہری (815ء – 883ء) تاریخ اسلام کے سنہری دور کے ایک عالم و محقق جو تفسیریات، علم اسماء الرجال اور تاریخ نگاری جیسے اہم علمی و تحقیقی شعبوں کے متخصص تھے۔ داود ظاہری کا شمار اہل سنت کے علمائے مجتہدین میں ہوتا ہے۔ داود ظاہری کی شہرت کی اصل وجہ فقہی مذاہب میں ایک نئے منہج یا مسلک یعنی فقہ ظاہری کی تشکیل ہے۔ اسے ظاہری کہنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ قرآن و سنت کے ظاہر ہی کو قابل اعتبار خیال کرتے اور ان میں کسی قسم کی تاویل، رائے یا قیاس کو روا نہیں سمجھتے تھے۔ تاریخ اسلام میں داود ظاہری پہلے عالم ہیں جنھوں نے سب سے پہلے علانیہ اس مسلک کو اختیا۔ گوکہ انہیں متنازع شخصیت سمجھا جاتا ہے لیکن مورخین لکھتے ہیں کہ داؤد ظاہری کو ان کے عہد میں خاصی مقبولیت حاصل تھی، حتیٰ کہ بعض مورخین نے انہیں "محقق دوراں" کے لقب سے بھی یاد کیا ہے۔الذہبی، ابن حزم اندلسی لکھتے ہیں: وہ اصفہانی کے لقب سے معروف تھے کیونکہ ان کی والدہ کا وطن اصفہان تھا نیز ان کے والد حنفی تھے۔ | ||||||||
ویکیپیڈیا کا حصہ بنیں!ویکیپیڈیا ایک آزاد اور کثیر لسانی دائرۃ المعارف ہے جس میں ہم سب مل جل کر لکھتے ہیں اور مل جل کر اس کو سنوارتے ہیں۔ ویکیپیڈیا کا آغاز جنوری سنہ 2001ء میں ہوا، جبکہ اردو ویکیپیڈیا کا اجرا جنوری سنہ 2004ء میں عمل میں آیا۔ اس وقت اردو ویکیپیڈیا میں 178,262 مضامین موجود ہیں۔
| ||||||||
ویکیپیڈیا میں تلاش
| ||||||||
|
| مدد کی ضرورت ہے؟ ہم سے رابطہ کریں! |